بھٹکل:04/ستمبر (ایس اؤنیوز)بھٹکل بلدیہ کی طرف سے کی گئی بلدیہ دکانوں کی نیلامی کارروائی میں کچھ خفیہ ہاتھوں کی وجہ سے پرانے دکاندار اپنے دکانوں سے محروم ہوگئے ہیں ان کے ساتھ انصاف کی مانگ لے کر جئے کرناٹکا بھٹکل شاخ کے ممبران نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم سونپا ۔
بلدیہ کے سامنے کھنچنے والی چھوٹی موٹی گاڑیوں کے ذریعے اپنی زندگی کا گزارہ کرنے والوں کا خیال رکھتے ہوئے ان کی بازآبادکاری کا فیصلہ کیا اور متبادل انتظامات کے طورپر اس وقت کے ڈپٹی کمشنر راکیش سنگھ نے بلدیہ کے سامنے ہی چھوٹی سی کامپلکس کی تعمیر کرتے ہوئے انہیں دکانیں منتقل کی تھیں، انہی دکانوں کی نیلامی کارروائی کرنا کوئی مطلب کی بات نہیں ہوئی۔
بلدیہ دکانوں کی میعاد 2009-2010اور 2010-2011 میں ختم ہوئی ہے، سال 2016میں ہائی کورٹ جو حکم صادر کیا ہے وہ بلدیہ کے ان دکانوں کی نیلامی سے تعلق نہیں رکھتا۔حکومت کی طرف سے 12سال کے لئے معاہدہ کرنے کا جو حکم جاری کیا گیا ہے وہ سال 2011 میں بھٹکل اربن بینک سے متصل تجارتی کامپلکس کے لئے بلائے گئے ٹینڈر میں اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ بلدیہ کی طرف سے ایسے کئی خامیوں کے باوجود دکاندار اپنی زندگی گزارے کے لئے مجبوری میں بلدیہ سے تعین کردہ کرائے کو ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ افسران اس کو منظوری دیتے ہوئے اصل دکانداروں سے دوبارہ معاہدہ کر کے دیں۔
سنگھ کے ممبران نے میمورنڈم میں کہا ہے کہ ہمیں ملی ہوئی جانکاری کے مطابق 6ستمبر کوبلدیہ کی طرف سے دکانوں کو اپنے قبضہ میں لے کر قفل ڈالنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اگر دکانداروں کو باہر نکالاگیا تو آگے ہونے والے تمام حادثات کے لئے افسران ہی ذمہ داران ہونے کا انتباہ میمورنڈم میں دیا گیا ہے۔ بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر منجوناتھ نے میمورنڈم قبول کیا۔ جئے کرناٹکا سنگھ کے بھٹکل صدر سدھاکر نائک، وویک وغیرہ موجود تھے۔ اس سے قبل سنگھ کے ممبران نے احتجاجی ریلی نکالی ۔